ملتان: بیٹی کو “قتل” کرکے خودکشی کرنے والے ڈاکٹر کے بھائی کی لاش برآمد

ملتان: بیٹی کو “قتل” کرکے خودکشی کرنے والے ڈاکٹر کے بھائی کی لاش برآمد


ملتان: چند روز قبل ملتان میں بیٹی کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرنے والے ڈاکٹر کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محب سلیم گھر میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں گذشتہ ہفتے ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حیسن نے اپنی کلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کو مبینہ طور پر گولی مارنے کے بعد خود کشی کر لی تھی اب ایک ہفتے بعد ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر سلیم محب کی لاش ان کے گھر سے ملی ہے۔

واقعے سے متعلق اہل علاقہ نے پولیس کو بتایا کہ ڈاکٹر سلیم محب کے گھر سے زرو دار دھماکے کی آواز سنائی دی گئی، جب لوگوں نے اندر جا کر دیکھا تو ان کی جھلسی ہوئی لاش فرش پر پڑی تھی۔

ایس ایچ او تھانہ لوہاری گیٹ محمد امین نے واقعے پر اپنا موقف دیا کہ جب پولیس ڈاکٹر سلیم کے گھر پہنچی تو ان کی جھلسی ہوئی لاش پڑی تھی، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ قتل ہے یا حادثہ؟ تاہم پولیس ہر پہلو سے جائزہ لے کر مقدمہ درج کرے گی۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن عامر نیازی کے مطابق پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کے بعد جائے وقوعہ پر پیٹرول کی خالی بوتل و دیگر شواہد حاصل کرلئے، شواہد سے تو واقعہ خود کشی کا لگتا ہے تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعے کو ملتان کی جسٹس حمید کالونی میں ڈاکٹر اظہر حسین نے اپنی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔ ڈاکٹر علیزہ تین بچوں کو ماں تھیں، ابھی اس کیس کی تفتیش جاری ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر سلیم کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

ڈاکٹر سلیم محب کی موت کا مقدمہ درج

دوسری جانب تھانہ صدر میں ڈاکٹر سلیم محب کی بیوہ کی مدعیت میں مقدمے کا اندراج کرلیا گیا ہے، متن مقدمہ کے مطابق میرے شوہر 3 بجکر 45 منٹ پر سخی سلطان کالونی اپنے گھر میں گئے تھے، گھر جانے کے بعد شوہر کا نمبر مسلسل بند ملا تو ہمسائے کو کال کرکے پتہ کرنے کا کہا، ہمسائے شیخ نے فون پر بتایا کہ گھر سے جلنے کی بو آ رہی ہے۔

مقدمہ کے متن میں کہا گیا کہ شوہر کو کورونا تھا ،تین دن پہلے اسپتال سےڈسچارج ہوئے تھے، ریٹائرمنٹ کےبعد بختاور امین اسپتال میں نوکری کر رہے تھے، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

Comments





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *